نو علامات جن سے بڑھاپے کا پتہ چلتا ہے

حیاتیاتی اصطلاح میں بات کریں تو میں کسی ایسی چیز کو نہیں جانتا جو عمر بڑھنے کے ساتھ بہتر ہوتی ہو۔

سپین کے نیشنل سینٹر فار آن کولوجیکل انویسٹیگیشن میں ڈاکٹر میوویل سرانو کی یہ بات کافی افسردہ کرنے والی ہے۔

وہ ‘سائنز آف ایجنگ’ نامی ایک نئی تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ہیں جس میں محقیقین وقت گذرنے کے ساتھ ہمارے جسم میں رونما ہونے والی بنیادی عوامل کی فہرست مرتب کرتے ہیں۔

سرانو نے بی بی سی کو بتایا ‘یہ عوامل ناگزیر ہیں۔’

ڈاکٹر سرانو کا کہنا ہے کہ مختلف افراد میں ان کے زندگی گزارنے کے انداز یا جینیاتی وجوہات سے ان عوامل کا اظہار کم یا زیادہ ہو سکتا ہے لیکن ایسا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔

ممالیہ مخلوق جن میں انسان بھی شامل ہے میں درج ذیل علامتوں سے عمر بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔

ڈی این اے کی ضرر رسانی میں اضافہ

ہمارا ڈین این اے ایک جنیاتی کوڈ ہے جو ایک عمل کے تحت خلیوں کے درمیان منتقل ہوتا ہے۔

بڑھتی ہوئی عمر اس عمل میں ہونے والی غلطیوں میں اضافہ کرتی ہے۔

یہ غلطیاں خلیوں میں اکھٹی ہو جاتی ہیں۔

یہ رجحان جینیاتی عدم استحکام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر اس بات سے متلعق ہے جب ڈی این اے کی غلطیاں خام خلیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے سیل جن سے تمام دوسرے مخصوص وظائف پیدا ہوتے ہیں۔

جینیاتی عدم استحکام خام خلیوں کے کردار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اگر غلطیاں بڑھتی رہیں تو وہ خلیے کو کینسر سے متاثر کر سکتی ہیں۔

وقت کے ساتھ کروموسومز اثر کھو دیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *